بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 جُمادى الأولى 1448ھ 15 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

مصلحت کی بناپر بھی معصیت کاارتکاب جائز نہیں

سوال

مجھے بریلویوں کی مسجد میں تراویح پڑھانی ہوتی ہے، اور اس وجہ سے مجھےبدعات کابھی ارتکاب کرناپڑتاہے، ورنہ مجھے پڑھانے نہیں دیں گے، کیایہ درست ہے؟

جواب

تراویح سے مقصود اللہ کی رضااور خوشنودی ہوتی ہے،اللہ کی رضااور خوشنودی کے حصول کے لیے معصیت کا راستہ اختیار کرنا ہرگزجائز نہیں، اور نہ ہی اس سے انسان کواجروثواب ملتاہے۔اس لیے اگر آپ کو تراویح پڑھانے کے لیے بدعات کاارتکاب کرناپڑتاہے تو گناہ کابوجھ اٹھانے کی بجائے آپ متبادل جگہ یا اپنے گھر میں تراویح سنانے کااہتمام کریں؛ تاکہ گناہ سے محفوظ رہ سکیں۔ تراویح سنانے کی جگہ کے حصول کی خاطربدعت کاارتکاب ہرگزجائز نہیں۔فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143908200716
تاریخ09-05-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں