بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

میرث کی تقسیم کی ایک صورت

سوال

زید کی وفات کے بعد اس کے ورثا ء میں اس کی والدہ اس کی بیوی اور ایک بہن ہیں ، اولاد کوئی بھی نہیں ، اس کے ترکے کی تقسیم کس طرح سے ہوگی؟

جواب

ذکر کردہ صورت میں شرعی تقسیم اس طرح ہوگی کہ کل مال کو 13 حصوں میں تقسیم کرکے 3 حصے بیوہ کو،4 حصے والدہ کو اور 6 حصے بہن کو ملیں گے۔فقط واللہ اعلم 

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143908200707
تاریخ09-05-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں