بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

رات دو تین بجے قضا نماز پڑھنا

سوال

اگرنماز کا وقت نکل جائے تو رات کو سوتے وقت دو تین بجے قضا کرسکتے ہیں؟

جواب

آپ کےسوال میں واضح نہیں ہےکہ  نماز کے وقت نکل جانے سے کو ن سی نماز مراد ہے ؟

اگر عشاء کی نماز کا پوچھنا چاہتے ہیں تو عشاء کی نماز کا وقت صبح صادق تک ہے، بغیر عذر کے عشاء کی نماز ادا کرنے میں دو تین بجے تک تاخیر کرنامکروہ ہے، لیکن اگرکبھی تاخیرہوجائے تو اس وقت یہ نماز ادا کی نیت سے پڑھی جائے گی، قضا شمار نہیں ہوگی۔

دیگر نمازیں اگر قضا ہوگئی ہیں تو وہ اس وقت میں ادا کی جاسکتی ہیں، اس وقت دیگر قضا نمازیں پڑھنے میں کوئی کراہت نہیں ہے۔فقط واللہ اعلم 

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143908200701
تاریخ09-05-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں