بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

قضا نمازوں کے ادا کرنے کا حکم

سوال

قضا نمازوں کے ادا کرنے کا کیا حکم ہے ؟ اور  یہ کس طرح ادا کی جا سکتی ہیں؟

جواب

بلوغت کے بعد سے جتنی  فرض نمازیں رہ گئی ہیں ان کا قضا کرنا بہر صورت لازم ہے ، بغیر قضا کیے وہ شرعاً معاف نہیں ہوتیں، اگر قضا نمازیں زیا دہ مقدار مٰیں ہیں تو خوب سوچ بچار کرنے کے بعد ہر نماز کی ایک تعداد مقرر کرلے کہ مثلاً ظہر کی دو سو نمازیں میرے ذمہ ہیں ، اس کو اپنے پاس نوٹ کرلے پھر جتنی نمازیں پڑھتا رہے اس کو کل تعداد میں سے منہا کرتا رہے، اس طرح ہر نماز کا نقشہ  بنالے ۔ عشاء کی قضا کے ساتھ وتر کی قضاکرنا بھی ضروری ہے۔فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143908200692
تاریخ09-05-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں