بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

مدرسہ کی سالانہ تعطیلات کی تنخواہ کا لینا

سوال

ایک مولوی صاحب کسی مدرسہ میں مدرس ہو ، سالانہ جلسہ کے بعد دس دن کی چھٹی کا اعلان ہوا ہے، آیا اس مدرس کو مدرسہ کےچھٹی کے ایام میں حاضری دینا لازم ہوگا، اگرحاضری نہ دے تو اس کی تنخواہ لینے  میں شبہ  پیدا ہوگا ؟

 

جواب

مدارس میں یہی عرف رائج ہے کہ مدرسہ کی طرف سے دی جانے والی تعطیلات کی تنخواہ مدرس کو دی جاتی ہے، لہذا مدرسہ میں حاضری دیے بغیر چھٹی کے دنوں کی تنخواہ لینا بلاشبہ جائز ہوگا۔ البتہ اگر مذکورہ مدرسے میں ایامِ تعطیل میں عملے کی حاضری اور تنخواہ کے حوالے سے جداگانہ قواعد وضوابط وضع ہیں اور مدرس نے بوقتِ تقرر ان کے مطابق معاہدہ کیا ہے تو وہ ان قواعد کا پابند ہوگا۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143908200676
تاریخ09-05-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں