بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 جُمادى الأولى 1448ھ 19 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

امام کے پیچھے قراء ت کرنا

سوال

امام کے  پیچھے سورۂ فاتحہ پڑھنی چاہیے یا نہیں ؟

 

جواب

مقتدی کے لیے کسی بھی نماز  میں (خواہ جہری ہو یا سری) امام کے پیچھے سورۂ فاتحہ پڑھنا درست نہیں ہے،  ارشادِ خداوندی ہے:

﴿ وَاِذَا قُرِئَ الْقُرْاٰنُ فَاسْتَمِعُوْا لَهٗ وَاَنْصِتُوْا لَعَلَّکُمْ تُرْحَمُوْنَ ﴾ ( الاعراف: ۲۰۴)

ترجمہ: اور جب قرآن پڑھا جائے تو اس کو کان لگاکر سنو اور خاموش رہو؛ تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔

 بہت سی تفسیری روایات سے یہ پتا چلتا ہے کہ اس آیت کا تعلق نماز ہی سے ہے؛ چناں چہ حضرت مجاہدؒ، حضرت عبد اللہ بن مغفل، حضرت ابوالعالیہ وغیرہم حضرات سے یہ صراحتاً منقول ہے۔ نیز اس  معنی کی تائید متعدد احادیثِ شریفہ سے بھی ہوتی ہے، جن میں سے چند  یہ ہیں :

1۔ نبی اکرم علیہ الصلاۃ والسلام نے ارشاد فرمایا: ’’جب امام قرأت کرے تو تم خاموش رہو‘‘۔

اس مضمون کی حدیثیں حضرت ابوموسیٰ اشعری، حضرت ابوہریرہ اور حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہم سے مروی ہیں۔

2۔ اسی طرح نبی اکرم علیہ الصلاۃ والسلام نے ارشاد فرمایا: ’’جس کا کوئی امام ہو تو امام کی قرأت مقتدی کے لیے بھی قرأت کے درجہ میں ہے‘‘۔

یعنی امام کا قرأت کرنا مقتدی کی قرأت کی طرف سے بھی کافی ہے۔اس مضمون کی روایات حضرت جابر، حضرت ابوہریرہ، حضرت عبد اللہ بن عمر، حضرت انس بن مالک، حضرت نواس بن سمعان، حضرت علی اور حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہم سے مروی ہیں ، اس لیے امام کے پیچھے سورہ فاتحہ  کی قرات بھی درست نہیں ہے۔فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143908200672
تاریخ08-05-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں