زکاۃ کے وکیل کا رقم اپنی ذات کے لیے استعمال کرنے کا حکم
سوال
زید نے رہائش کی غرض سے ایک پلاٹ خریدا جس کے لیے اسے کافی قرض لینا پڑا، اب زید کے دوست باہر رہتے ہیں انہوں نے ز ید کو زکاۃ کی رقم دی اور کہا جہاں مناسب سمجھو دے دینا، اب زید یہ رقم خود رکھ سکتا ہے یا اپنی بیوی کو دے سکتا ہے؟ واضح رہے کہ رقم زکاۃ بھی ہے، فطرانہ، فدیہ، صدقہ تمام رقمیں الگ الگ ہیں ۔
جواب
اگر رقم دینے والوں نے کوئی مصرف متعین نہیں کیا، بلکہ زید کی صواب دید پر چھوڑا ہے تو زکاۃ کا مستحق ہونے کی صورت میں زید خود بھی اس رقم کو استعمال کرسکتاہے، اور زید کی بیوی اگر مستحق ہو تو اسے بھی دے سکتاہے۔ فقط واللہ علم
دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

