بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 جُمادى الأولى 1448ھ 19 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

پاکی کاخیال نہ رکھنے والے شخص کو مسجد سے روکنا

سوال

 ایک عمر رسیدہ نمازی جو پیشاب کے قطروں سے احتیاط نہیں کرتے، وضو بھی درست نہیں ہوتا، ایک پاؤں دھونے کے بعد دوسرے کو چھوڑ دیتے ہیں اور اسی حالت میں مسجد آکر جماعت سے نماز پڑھتے ہیں،کچھ دماغی فتور بھی ہے، لیکن معتوہ ومجنون نہیں۔ کیا ان کی نماز درست ہے اور ان کے بیٹے انہیں مسجد جانے سے روکیں یا نہیں؟ 

جواب

جو شخص پاکی ناپاکی کا خیال نہ رکھ سکتا ہو اور اس کی وجہ سےمسجد ناپاک ہونے کااندیشہ ہو اور دیگر نمازیوں کو تکلیف ہوتی ہو، اُسے مسجدآنے سے روک سکتے ہیں۔ جہاں تک ان کی اپنی نماز کا تعلق ہے تو  ان کو معذور سمجھا جائے ، واقعۃً ذہنی توازن متاثر ہے تو اس حالت میں ان کی اپنی نماز درست ہے۔ فقطواللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143908200620
تاریخ08-05-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں