پاکی کاخیال نہ رکھنے والے شخص کو مسجد سے روکنا
سوال
ایک عمر رسیدہ نمازی جو پیشاب کے قطروں سے احتیاط نہیں کرتے، وضو بھی درست نہیں ہوتا، ایک پاؤں دھونے کے بعد دوسرے کو چھوڑ دیتے ہیں اور اسی حالت میں مسجد آکر جماعت سے نماز پڑھتے ہیں،کچھ دماغی فتور بھی ہے، لیکن معتوہ ومجنون نہیں۔ کیا ان کی نماز درست ہے اور ان کے بیٹے انہیں مسجد جانے سے روکیں یا نہیں؟
جواب
جو شخص پاکی ناپاکی کا خیال نہ رکھ سکتا ہو اور اس کی وجہ سےمسجد ناپاک ہونے کااندیشہ ہو اور دیگر نمازیوں کو تکلیف ہوتی ہو، اُسے مسجدآنے سے روک سکتے ہیں۔ جہاں تک ان کی اپنی نماز کا تعلق ہے تو ان کو معذور سمجھا جائے ، واقعۃً ذہنی توازن متاثر ہے تو اس حالت میں ان کی اپنی نماز درست ہے۔ فقطواللہ اعلم
دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

