بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 جُمادى الأولى 1448ھ 15 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

رمضان میں ہر روز الگ الگ جگہ تراویح پڑھنا

سوال

کیا رمضان کی تراویح روز الگ الگ جگہ پر پڑھی جاسکتی ہے؟ 

جواب

رمضان المبارک کے مہینے میں ہر روز تراویح پڑھنا سنت ہے اور تراویح میں ختمِ قرآن کرنا مستقل سنت ہے،  ہر روز الگ  الگ جگہ تراویح پڑھنے میں غالب امکان یہی ہے کہ ختمِ قرآن کی سنت پوری نہیں ہوگی،  کیوں کہ ممکن ہے کہ آج جس مسجد میں تراویح پڑھی ہے وہاں کے امام نے جہاں تک قرآن کریم پڑھایا ، اگلے روز  جب دوسری مسجد میں جائے تو وہاں امام نے اسی جگہ تک نہ پڑھایا ہو،  لہذا  اگر مختلف جگہوں پر تراویح پڑھنے کا ارادہ ہو تو پہلے کسی ایک جگہ ایک حافظ کے پیچھے مکمل قرآن سن لیا جائے، اس کے بعد جہاں سہولت ہو وہیں تراویح پڑھ لیں۔

'' السنة في التراويح إنما هو الختم مرةً، فلا يترك لكسل القوم، كذا في الكافي.۔۔۔ والختم مرتين فضيلة والختم ثلاث مرات أفضل، كذا في السراج الوهاج.۔۔۔۔۔ لو حصل الختم ليلة التاسع عشر أو الحادي والعشرين لا تترك التراويح في بقية الشهر؛ لأنها سنة، كذا في الجوهرة النيرة، الأصح أنه يكره له الترك، كذا في السراج الوهاج''. (الفتاوى الهندية (1/ 117،118)  فصل فی التراویح، ط: رشیدیه) فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143908200617
تاریخ08-05-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں