بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

نفاس والی عورت کا خون

سوال

اگر نفاس والی عورت کا خون 40دن سے کم میں بند ہوجائے، پھر وہ غسل کر کے نماز شروع کردے، لیکن 10دن بعد خون دوبارہ شروع ہو جائے تو کیا حکم ہے؟

جواب

نفاس کی زیادہ  سے زیادہ مدت 40  دن ہے، اس صورت میں بعد میں جو خون آیا ہے،اگر یہ ولادت کے 40 دنوں کے اندر آیا ہے تو ابھی تک نفاس جاری ہے اور اس عرصہ کی نمازیں لازم نہ ہوں گی۔یہ حکم اس وقت ہے جب کہ  یہ خون چالیس دن تک رک جائے۔

لیکن اگر خون چالیس دن کے بعد بھی جاری رہا تو دیکھا جائے گا کہ اگر خاتون کے ہاں پہلے کوئی اولاد ہوئی ہے جس کی بنا پر اس کی عادت مقرر تھی جس پر یہ پاک ہوگئی تھی ، لیکن  اس دفعہ خون چالیس  دن سے زیادہ ہوگیا تو صرف عادت کے ایام ہی نفاس شمار  ہوں گے، اس کے بعد کے دن استحاضہ کے ہوں گے، نفاس ختم ہونے کے بعد غسل کرکے ان دنوں کی نمازیں ادا کرنا لازم ہوں گی۔

اور اگر پہلے عادت مقرر نہیں تھی اور خون چالیس دن سے زیادہ آگیا تو چالیس دن نفاس کے اور باقی استحاضہ کے شمار ہوں گے۔فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143908200604
تاریخ08-05-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں