بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

بہن کو زکات دینا

سوال

میری بہن کو کئی سال پہلے اس کے شوہر نے مار پیٹ کر گھر سے نکال دیا تھا،  اب وہ کرایہ کے گھر میں رہتی ہے، اس کے چھ بچے ہیں جن کا خرچہ ان کا باپ نہیں اٹھاتا ہے، اور اس کے پاس کچھ سونا چاندی وغیرہ نہیں ہے، تو کیا میں اسے بتائے بغیر زکات دی سکتی ہوں؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں اگر وا قعۃً  آپ کی بہن کے پاس سونا چاندی نہیں ہے اور نہ ہی ساڑے باون تولہ چاندی کے مساوی نقدی( جو کہ حکومت پاکستان کے اعلان کے مطابق 38406 روپے ہے) یا اتنی قیمت کا ضرورت سے زیادہ سامان موجود نہیں ہے تو آپ ان کو زکات دے سکتی ہیں اور اس میں آپ کو دُھرا اجرملے گا (ایک زکات کی ادائیگی کا ثواب اور دوسرا صلہ رحمی کا ثواب )، بشرطیکہ آپ کی بہن سیدہ نہ ہوں۔

زکات دیتے وقت بتانا ضروری نہیں ہے، اس لیے بتائے بغیر بھی آپ زکات دے سکتی ہیں۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143908200601
تاریخ08-05-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں