بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 جُمادى الأولى 1448ھ 20 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

مسافر نے غلطی سے پوری نماز پڑھ لی

سوال

غلطی سے اگر کسی مسافر  نے چار رکعت نماز پڑھ لی تو کیا حکم ہے؟

جواب

مسافر پر قصر  نماز پڑھنا واجب ہے، پوری نماز پڑھنا درست نہیں ہے، اگر مسافر نے  ظہر، عصر اور عشاء کی نماز میں  بھول کر دو رکعت کے بجائے چار رکعتیں پڑھ لیں تو اگر دوسری رکعت  پر قعدہ کرلیا تھا  اور آخر میں سجدہ سہو بھی کرلیا تھا تو نماز درست ہوجائے گی، اور اگر آخر میں سجدہ سہو نہیں کیا تو اس نماز کے وقت اندر اس کا اعادہ واجب ہے ، وقت  گزرنے کے بعد اعادہ مستحب ہے۔ اور اگر   مسافر نے دوسری رکعت پر قعدہ  نہیں کیا  تو اس کا فرض ہی ادا نہ ہوگا، اعادہ کرنا واجب ہوگا۔

اور اگر جان کر چار رکعات پڑھیں تو فرض ادا ہوجائے گا، لیکن  گناہ گار ہوگا  ؛ اس لیے کہ اس میں کئی قسم کی کراہتیں جمع ہوجاتی ہیں۔

'' فلو أتم مسافر إن قعد في القعدة الأولیٰ تم فرضه ولکنه أساء، لو عامداً ؛ لتاخیر السلا م، وترک واجب القصر، وواجب تکبیرة افتتاح لنقل، وخلط النفل بالفرض و هذا لا یحل۔'' (در مختار ۲؍۶۰۹-۶۱۰ )فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143908200599
تاریخ08-05-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں