بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

سفر میں سنتوں کا حکم

سوال

سفر میں سنت پڑھیں یا نہ پڑھیں؟ جب کہ روزانہ ایک مخصوص جگہ نہیں جاتے، الگ الگ جگہ جاتے ہیں، ایسی صورت میں کیا حکم ہے؟

جواب

اگر سفر جاری ہو اور  کسی مقام پر نماز کے لیے ہی رکے ہوں اور جلدی نہ ہو تو سنت پڑھنا بہتر اور افضل ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سفر میں سنتیں پڑھنا ثابت ہے۔ لیکن اگر جلدی ہو تو فجر کی سنتوں کے علاوہ باقی سنتوں کو چھوڑنا جائز ہے۔ اگر سفر کے دوران کسی بستی یا شہر میں قیام ہو (خواہ قیام پندرہ دن سے کم ہو) تو وہاں سنتیں پڑھنی چاہییں۔فقط واللہ اعلم 

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143908200594
تاریخ08-05-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں