بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

24 جُمادى الأولى 1448ھ 07 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

اکیلاہونے کی وجہ سے دوسرے گھر میں عدت گزارنا

سوال

میرے بھائی کا تین ہفتے قبل انتقال ہوا ہے، ان کی ایک بیوہ اور دو بیٹے بالترتیب ۱۲ اور ۹ سال کے ہیں۔ان کی موجودہ رہائش بہادر آباد میں ہے او ر ان کا ایک گھر لیاری میں بھی ہے، جہاں ان کے سارے شتے دا ر رہتے ہیں ۔ ان کی بیوہ اکیلے پن کی وجہ سے اپنے لیاری والے گھر میں عدت گزارنا چاہتی ہے۔ کیا وہ ایسا کر سکتی ہے؟

جواب

عورت پر لازم ہے کہ اسی گھر میں عدت گزارے جہاں شوہر کی زندگی میں اس کی رہائش تھی ، البتہ  اگر وہاں عدت گزار نے میں اس کی جان ، مال یا عزت و آبرو کو خطرہ ہو تو دوسری جگہ منتقل ہوسکتی ہے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

فتویٰ نمبر 143908200581
تاریخ07-05-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں