بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 جُمادى الأولى 1448ھ 19 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

مسجد اور گھر کی مشترکہ دیوار کے پیچھے سے اقتدا کا حکم

سوال

مسجد کی پچھلی دیوار ایک گھر کی دیوار کے ساتھ مشترکہ ہے، یعنی مسجد کی پچھلی اور گھر کی اگلی دیوار ایک ہی ہے. ایسی دیوار کے پیچھے گھر میں کھڑے ہو کر خاتونِ خانہ نماز باجماعت پڑھ سکتی ہے؟

جواب

مذکورہ صورت میں عورت اپنے گھر سے امام کی اقتدا کرے گی تو اقتدا صحیح نہیں ہوگی ؛ کیوں کہ درمیان میں دیوار ہونے کی وجہ سے دونوں جگہیں الگ الگ ہیں، جب کہ جماعت کی نماز میں اقتدا صحیح ہونے کےلیے امام اور مقتدی دونوں کی جگہ حقیقتاً یا حکماً متحد ہونا ضروری ہے،حقیقتاً  جگہ متحد ہونے کی مثال یہ ہے کہ امام اور مقتدی دونوں ایک ہی مسجد یا ایک ہی گھر میں کھڑے ہوں، اور حکماً  جگہ متحد ہونے کی مثال یہ ہے کہ امام اور مقتدی اگرچہ دو الگ الگ جگہوں میں کھڑے ہوں ،لیکن درمیان  میں فاصلہ (دوصفوں کے برابر) نہ ہو۔فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143908200569
تاریخ07-05-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں