بیوی کو غصے میں کہا بھاڑ میں جا تو کیا طلاق ہوگی یا نہیں؟
سوال
ایک شخص نے بیوی سے تنہائی میں بات کرنے کے بعد غصے میں بیوی سے کہا 'بھاڑ میں جا'، اب یہ یاد نہیں کہ کیا نیت تھی، کیا اس سے طلاق واقع ہوجائے گی؟
جواب
بیوی کو 'بھاڑ میں جا' ، کہنے سے طلاق نہیں ہوتی ؛ کیوں کہ یہ نہ طلاقِ صریح کے الفاظ میں سے ہے اور نہ ہی طلاقِ کنایہ ہے۔فقط واللہ اعلم
دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن
فتویٰ نمبر
143908200568
تاریخ07-05-2018

