بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

بیوی کو ماں بہن کہنے کا حکم

سوال

اگرکوئی غصہ سےاپنی بیوی کوکہے کہ "جاتومیرےلیےماں بہن ہے" توکون سی طلاق واقع ہوگی؟

جواب

بغیر حرف تشبیہ کے بیوی سے یہ کہنا کہ "تو میرے لیے ماں بہن ہے"،  اس سے کوئی طلاق واقع نہیں ہوتی اور نہ ظہار ہوتاہے۔البتہ اس طرح کے الفاظ اداکرنافعل شنیع اور مکروہ ہے۔(فتاوی رشیدیہ،کتاب الطلاق،ص:476-فتاوی دارالعلوم دیوبند،9/237،دارالاشاعت)فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143908200561
تاریخ07-05-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں