بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

گردہ کی پیوند کاری

سوال

کیا ایک بھائی دوسرے بھائی کو گردے دے سکتا ہے؟

جواب

 ایک مریض کی جان بچانے کے لیے دوسرے اِنسان کا کوئی عضو لگوانا شرعاً جائز نہیں ہے، اگرچہ دوسرا شخص بھائی ہی کیوں نہ ہو اور بخوشی اِس کی اجازت دے رہا ہو، پھر بھی اِس کی گنجائش نہیں ہے ؛ کیوں کہ اِنسان اپنے اَعضاء کا خود مالک نہیں ہے، بلکہ یہ اَعضاء اُس کو اﷲ تعالیٰ کی طرف سے بطورِ عاریت (حدودِ شرع میں رہ کر استعمال کرنے کے لیے) دیےگئے ہیں، جنہیں وہ خود تو استعمال کرسکتا ہے،لیکن دوسروں کو دینے کا مجاز نہیں ؛ لہٰذ اگردے کی پیوندکاری کا عمل شرعاً جائز نہیں ہے ۔فقط واللہ ا علم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143908200543
تاریخ07-05-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں