بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

غیر مسلم کا خون مسلمان کو لگانا

سوال

کیا کسی مریض کوغیرمسلم کاخون لگاسکتےہیں؟

جواب

مسلمان مریض کو غیر مسلم کا خون لگانا جائز توہے ،لیکن بہتر نہیں ہے ؛ کیوں کہ کافر کے خون میں جو اثرات خبیثہ ہیں ان کے منتقل ہونے اور اس پر اثر انداز ہونے کا قوی خطرہ ہے، اسی لیے صلحائے امت نے فاسقہ عورت کا دودھ پلوانا بھی پسند نہیں کیا ، لہٰذا  مسلمان مریض کو غیر مسلم کا خون لگانے سے حتی الوسع اجتناب بہتر ہے، ضرورت ہو اور کوئی صورت نہ ہو تو لگالیا جائے ۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143908200541
تاریخ07-05-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں