بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

حج کے لیے الگ کی گئی رقم پر زکاۃ

سوال

 حج کے پیسوں پر زکاۃ لازم ہوتی ہے؟

جواب

حج کی نیت سے الگ کی گئی رقم  اگر ابھی تک جمع نہیں کرائی اور وہ موجود ہے، یا سرکاری اسکیم میں جمع کرائی ہے اور ابھی تک قرعہ اندازی نہیں ہوئی تو سال گزرنے پر اس  رقم کی  زکاۃ ادا کرنا لازم ہوگا۔

إذا أمسكه لينفق منه كل ما يحتاجه فحال الحول، وقد بقي معه منه نصاب فإنه يزكي ذلك الباقي، وإن كان قصده الإنفاق منه أيضا في المستقبل لعدم استحقاق صرفه إلى حوائجه الأصلية وقت حولان الحول، (فتاوی شامی،2/ 262، کتاب الزکاة، ط: سعید)فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143908200532
تاریخ07-05-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں