بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

2 جُمادى الأولى 1448ھ 14 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

رمیسہ یا رمیساء نام رکھنا

سوال

بچی کا'' رومیسہ''  نام رکھنا ٹھیک ہے؟کیا یہ کسی صحابیہ کا نام ہے؟تلفظ  ''رمیساء'' ہے یا ''رومیسہ'' ؟

جواب

'' رُمَیْسَه'' یہ ”رمس “ کی تصغیر ہے،  اس کے معنی ہیں: نشان مٹانا ، چھپانا. صحابیات میں سے کسی کا '' رُمَیْسَه'' نام تلاش کے باوجود نہیں مل سکا۔ البتہ ”رُمَیْصَاء “( ص کے ساتھ )   یہ صحابیات کے ناموں میں سے، اور ایک ستارہ کا نام بھی ہے،   حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی والدہ ام سلیم کا نام ”رمیصاء “ تھا، لہذا  ”رمیصاء“ نام رکھنا درست ہے۔

'' الرميصاء بنت ملْحَان بن خَالِد وَهِي أم سليم أم أنس بن مَالك، وَيُقَال:''الغميصاء''، وَيُقَال اسْمهَا: ''سهلة''، وَيُقَال: ''رميكة''، وَيُقَال: ''رميثة''، وَيُقَال: ''أنيفة الرميصاء''۔ (تلقيح فهوم أهل الأثر لابن الجوزی (ص: 241) ط: شرکة دارالارقم)فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143908200527
تاریخ07-05-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں