زکاۃ کی رقم ملنے سے قبل مستحق کو ادھار سامان دلانا
سوال
مستقبل میں ملنے والی زکاۃ کی رقم سے مستحقینِ زکاۃ کو دکان دار سےادھار میں راشن دینا کیسا ہے؟
جواب
اگر کسی زکاۃ دینے والے نے وکیل بنایا ہو کہ آپ میری طرف سے زکاۃ کی مد میں راشن دلادیں میں آپ کو ادائیگی کردوں گا، اس صورت میں تو اُدھار راشن دلاسکتے ہیں، لیکن بغیر وکالت کے محض اس امید پر کہ زکاۃکی رقم آنی ہے کسی کو زکاۃ کی مد میں راشن یا کچھ اوردلادیاتو زکاۃ ادا نہیں ہوگی۔ فقط واللہ اعلم
دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن
فتویٰ نمبر
143908200497
تاریخ06-05-2018

