بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

امام کا تیسری رکعت سے قعدۂ اولیٰ کی جانب واپس لوٹنا

سوال

اگر امام درمیانی قعدہ بھول جائےاور تیسری رکعت میں مکمل کھڑا ہونے کے بعد قعدہ اولیٰ کی طرف لوٹ آے توکیا نماز فاسد ہو جائے گی ؟

جواب

اگر امام قعدۂ اولیٰ میں بیٹھنا بھول جائے اور تیسری رکعت کے لیے کھڑاہوجائے توشرعی حکم یہی ہے کہ وہ واپس قعدۂ کی طرف نہ لوٹے بلکہ نماز کے آخر میں سجدۂ سہو کرلے نماز درست ہوجائے گی۔البتہ اگر امام تیسری رکعت کے قیام سے  قعدۂ اولیٰ کی طرف واپس آجائے اورآخر میں سجدۂ سہو کرلے تو مفتٰی بہ قول کے مطابق نماز ہوجائے گی،اگرچہ ایساکرنامکروہ ہے۔" فتاویٰ شامی" میں ہے:

'' فتح ( وإلا ) أي وإن استقام قائماً ( لا ) يعود ؛ لاشتغاله بفرض القيام ( وسجد للسهو ) ؛ لترك الواجب ( فلو عاد إلى القعود ) بعد ذلك ( تفسد صلاته) ؛ لرفض الفرض لما ليس بفرض، وصححه الزيلعي، ( وقيل : لا ) تفسد ، لكنه يكون مسيئاً ، ويسجد لتأخير الواجب، ( وهو الأشبه ) كما حققه الكمال، وهو الحق، بحر''۔فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143908200485
تاریخ06-05-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں