ایک دو تین کہہ کر تین پتھر پھینکنے سے طلاق کا حکم
سوال
ایک شخص اپنی بیوی سےتنگ آکرغصہ میں تین پتھر اٹھاکرایک ایک کرکے بیوی کی طرف پھینکتا ہے، ایک دو تین کہہ کر ۔ طلاق کالفظ زبان پر نہیں لایا توطلاق واقع ہوگئی یا نہیں؟
جواب
طلاق واقع کرنے کے لیے لفظِ طلاق کا تلفظ ضروری ہے خواہ وہ لفظ طلاق کے لیے صریح ہو یا کنایہ ، لہذا اگر کوئی شخص تین پتھر بیوی کی طرف پھینکتا ہے اور زبان سے صرف ایک دو تین کہتا ہے، طلاق کا کوئی لفظ نہیں کہتا تو ایسے شخص کی بیوی پر کوئی طلاق واقع نہ ہو گی۔ فقط واللہ اعلم
دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

