بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

2 جُمادى الأولى 1448ھ 14 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

کسی اگلی کلاس میں منتقلی پر سال بھر کی فیس وصول کرنا

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلے کے بارے میں:

زید ایک پرائیویٹ اسکول چلاتاہے, اس میں بسا اوقات کسی طالب علم کو اچھی استعداد اور قابلیت کی بنیاد پر موجودہ کلاس سے اگلی کلاس میں منتقل کر دیا جاتا ہے، لیکن اس انتقال پر اس سے پورے سال کی فیس وصول کی جاتی ہے۔ دریافت طلب امر یہ ہے مذکورہ فیس کی شرعی حیثیت کیا ہے، جائز ہے یا ناجائز؟

جواب

اسکول میں تعلیم کی فراہمی پر فیس کی شرعی حیثیت اجرت علی العمل کی ہے (یعنی تعلیم کی فراہمی کے عمل کے بدلہ میں فیس وصول کرنا)۔ اوراجرت علی العمل کا شرعی حکم یہ ہے کہ جب عمل ہوگا تو اجرت وصول کرنا جائز ہوگا اور جب عمل نہیں ہوگا تو اجرت وصول کرنا بھی جائز نہیں ہوگا؛  لہذا صورتِ مسئولہ میں کسی طالب علم کو  اگلی کلاس میں منتقل کرنے پر اسکول کی جانب سے گزشتہ کلاس( جس کی تعلیم اسکول نے فراہم نہیں کی) کی سال بھر کی فیس تعلیم فراہم نہ کرنے کے باوجود وصول کرنا ظلم و زیادتی  اور شرعاً ناجائز ہے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143908200442
تاریخ06-05-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں