بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 جُمادى الأولى 1448ھ 19 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

مسجد کے فنڈسے نوجوان مقتدیوں کو کھانا کھلانا

سوال

کیا امام مسجد کے فنڈسے نوجوان مقتدیوں کو (جومسجدکی صفائی کرتے رہتے ہیں ان کی تالیفِ قلوب کے لیے) کبھی کھانا کھلاسکتاہے؟ جب کہ مسجد کاباقاعدہ کوئی خادم بھی نہیں اور مسجد کی انتظامیہ برائے نام ہے جس کااعتراف خوداکثر مقتدیوں کوبھی ہے اور مسجدکے اکثر کام امام صاحب ہی کرتے رہتے ہیں۔

جواب

مسجد کے فنڈ کو مسجد کی ضروریات میں ہی استعمال کرنا ضروری ہے، اس کے خلاف کرنے کی صورت میں استعمال کرنے والے پر ضمان واجب ہوگا، اس لیے مذکورہ صورت میں جب کہ محلے کے نوجوان مقتدی دینی جذبے اور طیبِ خاطر سے مسجد کی خدمت کرتے ہیں یہ تبرع کے حکم میں ہے، لہٰذا انہیں مسجد فنڈ سے کھانا کھلانا درست نہیں ہے۔

امام صاحب اور انتظامیہ مسجد کوچاہیے کہ صفائی وغیرہ اور دیگر خدمات کے لیے اجرت طے کرکے مستقل خادم (خواہ اہلِ محلہ میں سے ہی کوئی ہو) مقرر کردیں۔ آئندہ یہ صورت بھی اختیار کی جاسکتی ہے کہ مسجد انتظامیہ کی جانب سے مذکورہ نوجوان مقتدیوں کے لیے  خدمات کے عوض کھانا وغیرہ مقرر کردیاجائے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143908200420
تاریخ06-05-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں