بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

16 جُمادى الأولى 1448ھ 28 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

اپنی جائیداد کا کچھ حصہ خدمت گزاری یا کسی اور نام سے اپنی کسی ایک اولاد کو دینا

سوال

 کیا والدین میں سے دونوں یا کوئی ایک اپنی جائیداد کا کچھ حصہ خدمت گزاری یا کسی اور نام سے اپنی کسی ایک اولاد کو جس کے ساتھ وہ رہائش پذیر ہوں اضافی طور پر دے سکتے ہیں، جب کہ پینشن کی مد میں انہیں انتہائی معقول رقم مل رہی ہو؟ استفسار پر کہا جاتا ہے کہ یہ بچہ بے روزگار ہے اور 2 بچوں کا باپ ہے، جب کہ پوری پینشن بھی اسی کو دی جاتی ہے۔ جس سے وہ نشہ ( چرس) کی لت میں بھی مبتلا ہے۔ واضح ہو کہ جائیداد والدین کو بھی وراثت میں ملی ہے ان کی زر خرید نہیں ۔ راہ نمائی فرما کر عنداللہ ماجور ہوں!

جواب

 والدین اپنی زندگی میں اپنی جائیداد کے مالک ہیں ،اپنی جائیداد  کا کچھ حصہ اولاد میں سے کسی کو خدمت گزاری  کی وجہ سےیا اس کی حاجت کی وجہ سے دینا  چاہیں تو دے سکتے ہیں۔ اس لیے اگر مذکورہ بیٹا والدین کی خدمت کرتا ہے اور والدین اسے اپنی جائیداد میں سے کچھ دیتے ہیں تو دیگر اولاد کو اس میں اعتراض کا حق نہیں ہے۔ البتہ شرعی وجہ کے بغیر اولاد میں سے کسی ایک کو دوسروں کی بہ نسبت زیادہ دینا منع ہوگا۔

اگر مذکورہ بیٹا اس نشے میں مبتلا ہے تو والدین کو  کوشش کرنی چاہیے کہ اُسے نشے کی لت سے چھٹکارا دلائیں۔فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143908200410
تاریخ06-05-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں