بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

نا بالغ کے پیچھے بالغ کی نماز کا حکم

سوال

اگر نابالغ لڑکا جامع مسجد میں نماز پڑھا رہا ہو  اور مقتدی بھی نابالغ لڑکے ہوں تو کیا ان کے ساتھ بالغ مقتدی نماز پڑھ سکتے ہیں یا نہیں؟ اور جماعتِ ثانیہ میں نا بالغ کی امامت کا کیا حکم ہے؟

جواب

نا بالغ لڑکے کے پیچھے بالغ کی اقتدا  کسی صورت جائز نہیں ہے، جماعتِ ثانیہ میں بھی درست نہیں ہے۔

واضح رہے کہ شرعی مسجد جس میں پنج وقتہ نماز کے لیے امام ومؤذن مقرر ہو جماعتِ ثانیہ کرانا مکروہ تحریمی ہے خواہ بالغ کرائے ؛ اس لیے مسجدِ شرعی کی حدود میں جماعتِ ثانیہ سے اجتناب کیا جائے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143908200398
تاریخ06-05-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں