بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

جس پلاٹ کا قبضہ نہ ملا ہو اس کی زکاۃ کا حکم

سوال

میں نے ایک پلاٹ خریدا تھا اور نیت یہ تھی کہ اس کو آگے فروخت  کرنا ہے، پر ابھی قبضہ نہیں ملا تھا کہ زکاۃ کی ادائیگی کی تاریخ آگئی اب اس کی زکاۃ دینا ہوگی یا نہیں؟

جواب

اگر آپ نے یہ پلاٹ آگے فروخت کرنے کی نیت سے خریدا تھا تو اس پر زکاۃ لازم ہو گی، اگرچہ اب تک اس کا قبضہ نہ ملا ہو ؛ کیوں کہ قبضہ کے بغیر بھی محض خریدنے سے ملکیت آ جاتی ہے، البتہ آپ کے اوپر اس پلاٹ کی زکاۃ ادا کرنا اس وقت لازم ہو گا جب اس پلاٹ کا قبضہ آپ کو مل جائے، اس سے پہلے ادائیگی واجب نہیں، اور جتنے سال آپ کی ملکیت میں رہا ان تمام سالوں کی زکاۃ ادا کرنا لازم ہو گی ۔ اور اگر ہر سال کی زکاۃ ساتھ ساتھ ادا کرتے رہیں تو یہ بھی جائز ہے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143908200396
تاریخ06-05-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں