بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

بالوں کی پیوند کاری کرنا

سوال

کیا اپنے سر پر بالوں کی پیوندکاری کرسکتے ہیں؟کسی اور کے بال لگوا سکتے ہیں؟

جواب

کسی شخص کے سر یا جسم کے  ایک حصہ کے بال لے کراُسی شخص کے سرکے دوسرے حصہ پر بذریعہ آپریشن اس طرح لگادیناکہ وہ عام بالوں کی طرح بڑھتے بھی رہیں اوراس طرح پیوست ہوں کہ علیحدہ نہ کیے جاسکتے ہوں تواس طرح کی پیوندکاری کی گنجائش ہے۔تاہم گنجپن دورکرنے کے لیے اس طرح پیوندکاری اور آپریشن کی مشقت اٹھاناکسی خاص ضرورت یاشرعی مجبوری کے تحت داخل نہیں؛ اس لیے اگراس قسم کے آپریشن سے بچاجائے توبہترہے۔ترمذی شریف میں حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سےمنقول ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے داغنے سے منع فرمایا۔ راوی کہتے ہیں:پس جب ہم بیمار ہوئے تو ہم نے داغ لگایا، لیکن ہم نے مرض سے چھٹکارا نہیں پایا اور نہ ہی کامیاب ہوئے۔

اور اگر کسی دوسرے شخص کے بال لگائے جائیں تو اس طرح کی پیوند کاری شرعاً جائزنہیں ہے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143908200387
تاریخ06-05-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں