بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

اولاد کے لیے وظیفہ

سوال

 اولاد کے لیے  کوئی وظیفہ بتادیں، استخارہ بھی کرکے بتادیں۔

جواب

اولاد کے لیے  بکثرت یہ  دعا پڑھیں: ﴿ رَبِّ هَبْ لِي مِنْ لَدُنْكَ ذُرِّيَّةً طَيِّبَةً إِنَّكَ سَمیع الدُّعَاءِ ﴾  [آل عمران: 38]

"استخارہ " کرنے سے اگر آپ کی مراد اولاد ہونے یا نہ ہونے کے متعلق استخارہ کرنا ہے، تو جاننا چاہیے کہ "استخارہ" ایک مسنون عمل ہے، جس  کی حقیقت کسی جائز معاملے میں اللہ تعالیٰ سے خیر اور بھلائی کی دعا کرنا ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ نے اس معاملے میں میرے لیے بہتری اور بھلائی رکھی ہے تو اسے میرے لیے مقدر فرمادے، اور اگر اس معاملے میں خیر اور بھلائی نہیں بلکہ شر اور برائی ہے تو اس معاملے سے مجھے محفوظ رکھے اور میرے لیے خیر مقدر فرمائے۔ استخارے کا مطلب اور حقیقت یہی ہے۔ آج کل استخارے کے نام سے جو دیگر عملیات مشہور ہیں، ان کا مسنون استخارہ سے تعلق نہیں ہے۔ استخارے کا مسنون طریقہ جاننے کے لیے درج ذیل لنک ملاحظہ فرمائیں! فقط واللہ اعلم

http://www.banuri.edu.pk/readquestion/%D8%A7%D8%B3%D8%AA%D8%AE%D8%A7%D8%B1%DB%81-%DA%A9%D8%A7-%D8%B7%D8%B1%DB%8C%D9%82%DB%81-%D8%A7%D9%88%D8%B1-%D8%AF%D8%B9%D8%A7-2/06-05-2018

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143908200372
تاریخ06-05-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں