بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

مرضعہ اور حاملہ کا روزہ رکھنے کا حکم

سوال

اگر "مرضعہ" اور "حاملہ" بچے کو دودھ پلانے کی خاطر روزہ نہ رکھے تو کیا حکم ہے ؟ کیوں کہ ایک دوست کی ابھی بچی ہوئی  ہے ،  تو رمضان المبارک کے مہینے میں روزہ رکھنے کا کیا حکم ہے؟  اس کے لیے جواب عنایت فرمائیں !

جواب

"مرضعہ"  یا "حاملہ"  کو روزہ رکھنے سے اپنی جان یا اپنے بچے کی جان کو ضرر لاحق ہو نے کا ڈرہو تو وہ روزے چھوڑ سکتی ہے ، جتنے روزے چھوڑۓ گی بعد میں ان  کی قضا  کرنی ہو گی۔ اور اگر اس قسم کے کسی نقصان کا خطرہ نہ ہو تو ان دونوں پر روزہ رکھنا لازم ہے۔فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143908200365
تاریخ06-05-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں