بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 جُمادى الأولى 1448ھ 20 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

مدرسہ کے مکان کے کرایہ کی ادائیگی زکاۃ کی رقم سے کرنا

سوال

میں ایک مکتب چلاتا ہوں جس میں پنج وقتہ نمازیں بھی ادا کی جاتی ہیں، یہ کمرہ ماہانہ پانچ ہزار کرایہ  پر ہے ,لیکن مقامی حضرات کرایہ ادا نہیں کرپاتے ہیں، تو کیا اس کے کرایہ کو ادا کرنے کے لیے زکاۃ  کی رقم لی جا سکتی ہے یا نہیں ?

جواب

زکاۃ کی ادائیگی صحیح ہونے کے لیے شرعاًیہ بات ضروری ہےکہ مستحقِ زکاۃ کو  مالکانہ حقوق کےساتھ حوالے کردیا جائے،زکاۃ کی رقم سے کرایہ اداکرنے کی صورت میں مذکورہ شرط مفقودہے ؛ اس لیےمذکورہ کمرے کے کرایہ کی اداٰٰئیگی زکاۃکی رقم سے کرنا درست نہیں-فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143908200322
تاریخ05-05-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں