بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

2 جُمادى الأولى 1448ھ 14 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

سرکاری ادارے کے ناقابلِ استعمال سامان کا حکم

سوال

ایک شخص سرکاری ادارے میں کام کرتا ہے، جہاں کچھ آلات تقریباً 12 سال پہلے خریدے گئے، اب وہی سامان پرانا ہوگیا اور موجودہ سسٹم میں استعمال کے قابل نہیں رہا، لہذا فیصلہ کیا گیا کہ اس سامان کوٹکڑے ٹکڑے کیا جائے گا یا ضائع کردیا جائے، کیوں کہ اب اس کا کوئی فائدہ نہیں، اس سرکاری ادارے کا ایک ملازم اسے اپنے گھر میں استعمال کرسکتا ہے یا نہیں، کیوں کہ اسے یا تو ٹکڑے ٹکڑے ہونا ہے یا ضائع ہونا ہے؟

جواب

سرکاری ادارے میں موجود سامان اگرچہ قابلِ استعمال نہ رہا ہو اسے اپنے ذاتی استعمال میں لانا شرعاً درست نہیں، البتہ اگر حکومت کسی کو اس کے استعمال کی اجازت دے دے یا متعلقہ ادارے سے وہ چیز خرید لی جائے تو پھر جائز ہوگا۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143908200318
تاریخ05-05-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں