بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 جُمادى الأولى 1448ھ 19 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

سورۂ فاتحہ کے بعد دوسری سورۃ ملانے سے قبل بسم اللہ پڑھنا

سوال

نماز میں سورہ فاتحہ کے بعد ضمّ سورۃ (جیسے سورۃ فیل ) سے پہلے بسم اللہ پڑھنا چاہیے یا نہیں ؟

جواب

سورہ فاتحہ کے بعد دوسری سورت  ملانے سے پہلے  بسم اللہ پڑھنا مستحب اور بہتر ہے۔

"حاشیۃ الطحطاوی" میں ہے:

''فائدة: يسن لمن قرأ سورة تامة أن يتعوذ ويسمى قبلها، واختلف فيما إذا قرأ آية والأكثر على أنه يتعوذ فقط، ذكره المؤلف في شرحه من باب الجمعة، ثم أعلم أنه لا فرق في الإتيان بالبسملة بين الصلاة الجهرية والسرية، وفي حاشية المؤلف على الدرر: واتفقوا على عدم الكراهة في ذكرها بين الفاتحة والسورة بل هو حسن سواء كانت الصلاة سرية أو جهرية۔''(1/174) فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143908200300
تاریخ05-05-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں