بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

کیا تبلیغ میں جانے والا اللہ کے راستے میں ہے؟

سوال

کیا تبلیغی اجتماع میں جانے والے کو  کیا اللہ کے راستے میں جانے والا کہیں گے؟

جواب

امام کاسانی نے  جہاں فی سبیل اللہ کی تشریح کی ہے وہاں یہ الفاظ استعمال فرمائے ہیں:

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (2/ 45)
"وأما قوله تعالى: {وفي سبيل الله} [التوبة: 60] عبارة عن جميع القرب فيدخل فيه كل من سعى في طاعة الله وسبيل الخيرات إذا كان محتاجاً"۔

ان الفاظ سے معلوم ہوتا ہے کہ ہر وہ شخص جو دین کی خاطر اور اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی کے لیے محنت اور کوشش میں لگا ہوا ہے وہ "فی سبیل اللہ" کے مصداق میں شامل ہے، اور تبلیغی اجتماع میں جانے والے بھی چوں کہ دین ہی کی خاطر محنت و کوشش میں لگے ہوتے ہیں اس لیے  اُن کو بھی اللہ کے راستے میں جانے والا کہیں گے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143908200296
تاریخ05-05-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں