بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

16 جُمادى الأولى 1448ھ 28 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

قرض کی ادائیگی کے اسباب میسر نہیں

سوال

 بندہ پر بہت زیادہ قرض ہے اور ابھی آمدنی بھی بند ہے،کوئی روزگار نہیں ہے جس سے میں قرض اتارسکوں ،قرض داروں سے سچ بولتا ہوں تو مارپیٹ کرتے ہیں، اگر جھوٹ بولتاہوں تو خاموش ہوکر بیٹھ جاتے ہیں،جھوٹ بولنے سےمراد یہ ہے کہ ان سے مہینہ ،پندرہ دن کا وقت لے لیتا ہوں، مگر پیسے دے نہیں پاتا، راہ نمائی فرمائیں۔

جواب

قرض ادا کرنے کی نیت رکھیں اور اس کے لیے  بھر پور کوشش کرتے رہیں، قرض خواہوں سے وقت لیتے وقت یہ نیت رکھیں کہ ان شاء اللہ اس مدت میں قرض ادا کردوں گا اور پھر اس کی کوشش بھی کریں، مایوس ہو کر نہ بیٹھیں، اور صلاۃ الحاجت پڑھ کر اللہ تعالی سے مدد کا سوال بھی کرتے رہیں، پنج وقتہ نماز ، تلاوتِ قرآن مجید اور  کثرت سے استغفار کا اہتمام کریں، سورۃ الضحیٰ اور درج ذیل دعا صبح وشام سات سات دفعہ پڑھ لیا کریں:

'' اَللّٰهُمَّ اکْفِنِيْ بِحَلَالِکَ عَنْ حَرَامِکَ وَأَغْنِنِيْ بِفَضْلِکَ عَمَّنْ سِوَاکَ ''۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143908200295
تاریخ05-05-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں