بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 جُمادى الأولى 1448ھ 20 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

قرض سے بچنے کے لیے زکاۃ لینا

سوال

میں ایک سرکاری ادارہ میں ملازمت کرتا ہوں اور الحمدوللہ اپنی تنخواہ سے اپنے اور اپنے اہل خانہ کی تمام ضروریات پوری کرتا ہوں، پہلے میں گاڑیوں کے ٹریکر کی سیلز/سپلائی کا کام بھی کیا کرتا تھا جو کہ اب ختم ہو گیا ہے، اور میری کمر میں تکلیف کی وجہ سے میں مزید کوئی کام بھی نہیں کرپارہا ہوں جس کی وجہ سے مجھے ہر ماہ کچھ قرض لینا پڑتا ہے، اور میں مسلسل مقروض ہوتا جا رہا ہوں، میرے پاس آفس اور دیگر آمدورفت کے لیے موٹر سائیکل ہے، گھریلو ضروریات کے لیے فریج بھی ہے۔ کیا میں اپنی فیملی کی ضروریات مکمل طور پر پوری کرنے اور قرض سے بچنے کے لیے زکاۃ لے سکتا ہوں؟

جواب

اگر آپ کے پاس ساڑھے باون تولہ چاندی یا اس کے بقدر رقم یا ضرورت سے زائد اتنی قیمت کاسامان نہیں ہے یا آپ کا قرض آپ کے اثاثہ جات سے زیادہ ہے تو آپ زکاۃلے سکتے ہیں۔موٹر سائیکل اور فریج بنیادی ضرورت کے سامان میں داخل ہیں۔فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143908200272
تاریخ05-05-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں