بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 جُمادى الأولى 1448ھ 15 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

تراویح کی پہلی دس رکعات میں ابتدا سے اور آخری دس رکعات میں سولہویں پارے سے پڑھنے کا حکم

سوال

 کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں:

تراویح کے سلسلے میں دوحافظوں نے قرآن کو تقسیم کر لیا اس طور پر کہ ایک حافظ شروع کی دس رکعات میں پہلے پارہ سے پڑھائےگا۔ جب کہ دوسرا حافظ آخری دس رکعات میں ''قَالَ اَلَم'' یعنی سولہویں پارے سے پڑھائےگا. کیا اس طرح قرآن پاک ختم کرنا درست ہے ؟

جواب

تراویح میں قرآن کریم سناتے ہوئے ترتیب سے قرآن کریم پڑھناچاہیے۔آپ نے جو طریقہ لکھا ہے کہ پہلی دس رکعات میں پہلاپارہ اور آخری دس رکعات میں سولہواں پارہ پڑھاجائے یہ طریقہ امت کے متوارث طریقے اور تعامل  کے خلاف ہے ؛ اس لیے ایسا کرنا درست نہیں۔دوسری دس رکعات میں ترتیب کے مطابق قرآن کریم پڑھاجائے۔

البتہ یہ طریقہ اختیار کیاجاسکتاہے کہ ایک حافظ شروع کے پندرہ پارے سنانے کے بعد بقیہ پندرہ پاروں کے لیے دوسرے حافظ کو مقررکردے۔

نیز تراویح میں امام ایک سے زائد ہوں تو بہتر یہ ہے کہ امام ترویحہ کے بعد بدلا جائے، درمیان میں نہیں، لہذا دو حافظ ہوں تو ایک آٹھ رکعت پڑھائے دوسرا بارہ۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143908200244
تاریخ05-05-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں