عمرے میں سعی کو طواف پر مقدم کرنا
سوال
اگر عمرے میں سعی کو طواف سے مقدم کر دیا تو اس پر دم ہو گا ؟
جواب
جو سعی طواف سے پہلے کی جائے شرعاً اس سعی کا کوئی اعتبار نہیں ہوتا ؛ لہذا جس شخص نے عمرے میں طواف سے پہلے سعی کی وہ کالعدم ہے، طواف کے بعد دوبارہ سعی کرنا ضروری ہے، اگر سعی نہیں کی اور حلق کرالیا تو اب ترکِ واجب کی وجہ سے دم ادا کرنا لازم ہوگا ۔
" ولو سعی قبل الطواف لم یعتد به ای بذٰلک السعی، فإن سعیه حینئذ کالمعدوم، فان لم یعده فعلیه دم ای اتفاقاً۔ (غنیة الناسک ۲۷۷، مناسک ملا علی قاری ۳۵۵) "فقط واللہ اعلم
دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

