بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

بطور کفارہ واجب ہونے والے روزوں کا فدیہ

سوال

 ایک عورت نے نیند کی حالت میں اپنے چھوٹے دوسالہ بچے کوخطأ قتل کر ڈالا، اب وہ عورت بقیدحیات نہیں،کفارے کی ادائیگی کے خاطر اب ہم ان کی طرف سے کیاچیز اداکرسکتے ہیں؟ کیا کفارہ بطور اطعام مسکین ادا کیا جاسکتا ہے؟

جواب

مرحومہ پر بطور کفارہ واجب ہونے والے روزوں کے بدلے ورثاء کا مسکینوں کو کھانا کھلانا جائز نہیں، تاہم ورثاء اگر روزوں کا فدیہ ادا کردِیں تو  اس سے معافی کی امید کی جاسکتی ہے، نیز ایک روزے کا فدیہ ایک صدقہ فطر کے برابر ہے۔

الفتاوى الهندية - (5 / 333)
'' ولو كان صوم كفارة اليمين أو صوم كفارة القتل فعجز عنه وصار شيخاً فانياً فأراد أن يطعم عنه لم يجز ، والأصل فيه أن كل صوم إذا كان أصلاً بنفسه ، ولم يكن بدلاً عن غيره جاز الإطعام بدلاً عنه إذا وقع اليأس عن الصوم ، وكل صوم كان بدلاً عن غيره ، ولم يكن أصلاً بنفسه لم يجز الإطعام عنه ، وإن وقع اليأس عن صوم كفارة اليمين ؛ لأنه بدل عن غيره فلا يجزئ الإطعام عنه ۔۔۔ الخ 
فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143908200230
تاریخ05-05-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں