تراویح کا پیسہ لینا
سوال
تراویح کا پیسہ لینا کیسا ہے؟
جواب
تراویح کی نماز میں قرآن مجید سنا کر اجرت لینا اور لوگوں کے لیے اجرت دینا جائز نہیں، لینے اور دینے والے دونوں گناہ گار ہوں گے، تاہم اگر قرآن مجید سنانے والے کو رمضان المبارک کے لیے نائب امام بنا دیا جائے اور اس کے ذمہ ایک یا دو نمازیں سپرد کردی جائیں پھر رمضان کے آخر میں تنخواہ کے نام پر کچھ دینا جائز ہوگا۔
اگر بلاتعیین کچھ دے دیا جائے اور نہ دینے پر قاری کی طرف سے شکوہ یا شکایت نہ ہو تو یہ صورت اجرت میں داخل نہیں ہے، اس کی گنجائش ہے۔فقط واللہ اعلم
دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

