بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 جُمادى الأولى 1448ھ 15 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

چند روزہ تراویح پڑھ کر چھوڑ دینے کا حکم

سوال

1۔ اگر کسی شخص کا کلینک ہے اور وہ کلینک شام میں مغرب کے بعد کھولتا ہے  تو رمضان میں اس پر تراویح کا کیا حکم ہے؟ 3،5،7،10 روزہ تراویح پڑھ کر باقی رمضان نہ پڑھے تو کیا ایسا کرنا ٹھیک ہے؟

2۔ میں نے کسی صاحب سے سنا کہ وہ کہہ رہے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث کا مفہوم ہے کہ شیطان انسان کی رگوں میں ہوتا ہے  یا گھومتا ہے، اس کی تصدیق فرما دیں۔

3۔ غیر محرم خاتون ٹیچر سے پردے کا کیا حکم ہے؟

جواب

1۔ واضح رہے کہ تراویح میں ایک سنت تو یہ ہے کہ تراویح میں قرآن کی تکمیل کی جائے اور دوسری سنت یہ ہے کہ پورے رمضان تراویح پڑھی جائے، اگر  کوئی شخص چند روزہ تراویح پڑھ کر باقی رمضان تراویح نہ پڑھے  تو دوسری سنت کا تارک ہو گا، اس لیے پورا رمضان ہی تراویح پڑھنی چاہیے۔

2۔ آپ نے صحیح سنا ہے، حدیث شریف کا مفہوم ہے کہ شیطان انسان میں ایسے دوڑتا ہے جیسے خون دوڑتا ہے، یہ روایت حدیث کی متعدد کتب میں مذکور ہے۔

سنن أبى داود (4/ 367)

"عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم: « إِنَّ الشَّيْطَانَ يَجْرِي مِنِ ابْنِ آدَمَ مَجْرَى الدَّمِ ».

3۔ شریعتِ مطہرہ نے مرد کو  غیر محرم خواتین کی طرف دیکھنے سے منع فرمایا ہے  خواہ وہ غیر محرم کوئی اجنبی ہو یا اس کی ٹیچر، لہذا ٹیچر  سے بھی پردہ کا وہی حکم ہے جو اجنبی عورت  سے ہے،اس میں کوئی فرق نہیں۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143908200198
تاریخ04-05-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں