بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

غیر مسلم کو ان کے تہوار پر ہدیہ دینے کا حکم

سوال

کیا کسی غیر مسلم کو ان کے مذہبی تہواروں پر کچھ دیا جا سکتا ہے ؟ اگر دیا جا سکتا ہے تو اس میں کیا نیت رکھی جائے؟ 

جواب

غیر مسلم کو ان کے مذہبی تہوار پر ہدیہ دینا محبت اور تعلق کی علامت ہے، جو شرعاً ناجائز ہے،  بلکہ اگر ان کے تہوار کے دن کی تعظیم کرتے ہوئے ہدیہ دیا تو کفر کا اندیشہ ہے ؛ اس لیے اس سے پرہیز واجب ہے، البتہ ضرورت کی حد تک رسمی تعلق رکھنا اور اچھے اخلاق کے ساتھ پیش آنا نہ صرف جائز ، بلکہ شرعاً مطلوب ہے۔ "شرح الفقہ الاکبر" میں ہے:

 "ومن أهدى يوم النوروز إلى إنسان شيئاً وأراد تعظيم النوروز كفر". (الفقه الأكبر : ٣٠٦ ) فقط واللہ اعلم 

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143908200154
تاریخ04-05-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں