دعائے قنوت پوری نہیں پڑھی / چار رکعت سنت کے قعدہ اولیٰ میں درود شریف اور دعا پڑھنے کا حکم
سوال
وتر کی نماز میں دعائے قنوت پوری نہیں پڑھی قصداً کیاحکم ہے؟ چار رکعت سنت میں دوسری رکعت کے قعدہ میں تشہد کے بعد درودشریف اور دعا پوری پڑھنا ضروری ہے؟ اگر کوئی شخص التحیات پڑھ کر کھڑا ہو جائے تو کیا سجدہ سہو لازم ہے؟
جواب
آدھی دعائے قنوت پڑھنے سے نماز ادا ہوجائے گی، لیکن مسنون یہ ہےکہ پوری دعاپڑھی جائے۔
چار رکعت سنن موکدہ میں دوسری رکعت میں درود اور دعا پڑھنا درست نہیں، التحیات ختم ہونے کے فوراً بعد کھڑا ہونا چاہیے۔ البتہ سنن غیر مؤکدہ اور نوافل میں دوسری رکعت میں درود اور دعا پڑھنا درست ہے ، لیکن واجب نہیں ؛ اس لیے اس کے چھوڑنے والےپر سجدہ سہو بھی لازم نہیں۔فقط واللہ اعلم
دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

