بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 جُمادى الأولى 1448ھ 19 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

عصر میں پانچ رکعات ادا کرلیں

سوال

مسبوق نے عصر میں پانچ رکعتیں ادا کرلیں، اس کے لیے کیا حکم ہے؟ 

جواب

صورتِ مسئولہ میں مذکورہ شخص اگر  (اپنی چوتھی رکعت کے) قعدہ اخیرہ   میں بیٹھا تھا اور پانچویں رکعت کے اخیر میں سجدہ سہو کرلیا تھا تو اس صورت میں عصر کے فرض ادا ہوجائیں گے اور پانچویں رکعت لغو ہو جائے گی، البتہ اگر قعدہ اخیرہ نہیں کیا تھا اور پانچویں رکعت ادا کر لی تھی تو اس صورت میں نماز فاسد ہوجائے گی اورعصر کی نماز کا اعادہ لازم ہوگا۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143908200147
تاریخ04-05-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں