بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 جُمادى الأولى 1448ھ 19 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

حنفی امام کا دوسرے مسلک کے مطابق وتر پڑھانا

سوال

 ایک امام جوکہ حنفی ہے اور " امارات العربیہ المتحدۃ" میں اوقاف یعنی حکومت کی طرف سے مقرر ہے، اور یہاں پر اکثر مقامی لوگ یا تو مالکی مذہب کے ہیں یا حنبلی اور یا شافعی مذہب کے. اب رمضان المبارک میں مذکورہ امام اگر وتر حنفی مذہب کے مطابق پڑھاتاہے تو فتنے کا یقینی اندیشہ ہے ، بلکہ ایسے واقعات پیش آچکے ہیں، تو کیا اس امام کے لیے شفع والوتر پڑھانا جائز ہے، یعنی دو الگ اور ایک الگ؟ 

جواب

اگر حنفی امام کے لیے اپنے مسلک کے مطابق وتر پڑھانا ممکن نہ ہو تو وتر کی امامت کسی اور کے سپرد کرے، وتر کی دو رکعت الگ اور ایک رکعت الگ پڑھنا پڑھانا درست نہیں۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143908200119
تاریخ04-05-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں