بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

جھوٹی قسم کا کفارہ

سوال

اگر کسی نے جان بوجھ کر اپنی عزت اور خاندانی دشمنی کے ڈر سے جھوٹی قرآن کی قسم کھا لی یا جھوٹ بول کر قرآن اٹھایا تو اس کا کیا حکم ہے ؟ اور اگر کوئی فدیہ ہے تو وہ بتائیں!

جواب

مذکورہ صورت میں اگر گزشتہ زمانے کی کسی بات یا واقعے پر جھوٹی قسم کھائی ہے تو یہ"یمینِ غموس"  کہلاتی ہے، یعنی ایسی قسم کی بنا  پر انسان گناہ میں ڈوب جاتا ہے، یہ ایسا کبیرہ گناہ ہے کہ اس قسم کا مستقل کفارہ نہیں، لیکن توبہ واستغفار ضروری ہے، اور اگر ایسی قسم کے ذریعے کسی کا جانی یا مالی نقصان کیا ہو تو اس کی تلافی بھی واجب ہے۔ فقط واللہ اعلم 

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143908200111
تاریخ04-05-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں