بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

17 سال کی لڑکی سے نکاح کرنا

سوال

 میری شادی  کی تاریخ طے ہوگئی ہے، لیکن لڑکی کی عمر 17 سال ہے کیا 17 سال کی لڑکی سے نکاح ہوسکتا ہے ؟ کوئی پابندی تو نہیں ہےشرعاًوقانوناً؟

جواب

شرعاً 17 سال کی عمر کی لڑکی سے نکاح منعقد ہوجاتا ہے، شریعت میں اس سلسلے میں پابندی نہیں ہے،  البتہ ہمارے علم کے مطابق یہاں کے صوبائی قانون میں  18 سال سے کم عمر لڑکی سے  نکاح کرنے پر پابندی ہے۔ اگر آپ  کسی اور صوبے سے تعلق رکھتے ہیں تو بظاہر قانوناً بھی پابندی نہیں ہوگی ۔

واضح رہے کہ اس سلسلے میں قانون مطلقاً منع نہیں کرتا، بلکہ کسی قدر تفصیل اور گنجائش موجود ہے ؛ لہٰذا  قانونی حیثیت جاننے کے لیے  کسی سمجھ دار اور دین دار وکیل سے رابطہ کریں۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143908200085
تاریخ02-05-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں