بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

نماز کی قضا میں صرف فرض ادا کیے جائیں گے

سوال

کیا قضا نماز وں کے صرف فرائض ہی ادا کرنے ہوں گے؟ اور کیا فرائض کی تعداد اتنی ہی ہے جتنے فرائض ہوتے ہیں جیسے کہ ظہر کے 4 فرض ہیں وہ 4 ہی پڑھنے ہوں گے یا ان میں کوئی کمی بیشی کی گنجائش ہے؟ 

جواب

صورتِ مسئولہ میں کوئی نماز رہ جائے اور وقت گزرنے کے بعد ادا کی جائے تو صرف فرض نماز  ادا کرنی ہوگی، فرض میں کوئی کمی بیشی نہیں،  جتنی رکعات ادا میں فرض ہیں اتنی ہی قضا  میں بھی،  سنن و نوافل کی قضا نہیں کی جائے گی ، البتہ وتر  رہ جانے کی صورت میں اس کی بھی قضا ضروری ہے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143908200072
تاریخ01-05-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں